بھٹکل:12/ جنوری (ایس اؤنیوز)اسکول گرم کھانامنصوبہ مرکزی حکومت کا عوامی فلاح پروگرامات کا ایک حصہ ہے ، حالیہ طورپر پلاننگ کمیشن کو رد کرکے نیتی آیوگ کی تشکیل کئے جانےکی وجہ سے غذا اور صحت کے متعلق امداد میں کمی کی جارہی ہے ۔ جس کے نتیجے میں اسکول گرم کھانا اسکیم کے ملازمین متاثرہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے کرناٹکا اکشر داسوھا ملازمین سنگھ ، بھٹکل شاخ نےجمعہ کو مشاہیرے میں اضافہ کا مطالبہ لے کر میمورنڈم سونپا۔
بچوں کی غذائی کمزوری کو دورکرنےوالی یہ خواتین ملازمین کو صرف 2000سے 2200روپئے کے مشاہیرے کے سوا دوسری کوئی سہولت نہیں ہے، بے روزگاری اور غربت کی وجہ سے دیہی علاقہ کی عورتیں گرم کھانا اسکیم میں مزدوری کررہی ہیں، کم تنخواہ پر بڑی کامیابی کے ساتھ اسکیم چلانے والی عورتوں پر دباؤ ڈالا جارہاہے، معیاری غذائی اشیاء سپلائی نہ کرتے ہوئے گرم کھانا معیاری ہونے پر زور دینا ،چوری کے الزامات کے دباؤ میں کام کرنا مجبوری ہے۔ مرکزی حکومت گذشتہ 9برسوں سے تنخواہوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا ہے، یہ ایک مرکزی حکومت کی اسکیم ہے لیکن ریاستی حکومت کی طرف سے کم سے کم تنخواہ نہیں دینا ٹھیک نہیں ہے۔ دن بدن روزمرہ کی چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ ہونے کی بات میمورنڈم میں کہی گئی ہے۔ اس موقع پر ملازمین سنگھ کی صدر گیتا نائک، کومل دیواڑیگا، چندرکلا نائک، نیتراوتی نائک،ممتا نائک، آشا آچاری ، ساوتری نائک موجود تھیں۔